Tuesday, November 27, 2012

Pakistan Ki Gheyr Ayeeni Tareekh - Aik Mukhtasar Khaaka

پاکستان کی غیرآئینی تاریخ: ایک مختصر خاکہ

”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں مجھے اداکاری نہیں آتی۔ اگر مجھے سیاسی اقتدارکی خواہش ہو تو روکنے والا کون ہے۔ فوج میرے ساتھ ہے اور میرے پاس طاقت ہے، جو جی میں آئے کروں۔ آئین کیا ہوتا ہے؟ دس بارہ صفحات کا ایک کتابچہ۔ میں کل ہی اسے پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں اور ایک نئے نظام کے تحت حکومت شروع کر سکتا ہوں۔ کون ہے جو مجھے روکے۔“ (جینرل محمد ضیاءالحق)   

مورخین نے پاکستان کی متعدد آئینی تاریخیں لکھی ہیں، اور مستقبل میں بھی ایسی تاریخیں لکھی جائیں گی۔ لیکن تاحال پاکستان کی غیرآئینی تاریخ لکھے جانے کا کو ئی منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غیرآئینی تاریخ کو سامنے رکھے بغیر آئینی تو کیا پاکستان کی کوئی بھی تاریخ لکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ پاکستان کی عمر کا تقریباً نصف حصہ غیرآئینی ادوار پر مشتمل ہے اور بقیہ نصف حصہ آئینی اور نیم آئینی ہونے کے باوجود، اس غیرآئینی حصے کے اثرات سے گہنایا ہوا ہے۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں نصف صدی غیرآئینی حکومتیں بر سر اقتدار رہیں اور بقیہ نصف صدی غیرآئینی حکومتیں برسر اقتدار نہیں رہیں۔ سو ایسے میں غیرآئینی عوامل کو نظر انداز کر کے پاکستان کی ”تاریخی پیش رفت“ کو سمجھنا اور قلمبند کرنا، اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف ہے۔ کہنے سے مراد یہ ہے کہ پاکستان کی آئینی تاریخ کے مقابلے میں، غیرآئینی تاریخ زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں اس غیرآئینی تاریخ کا ایک مختصر خاکہ وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:

1945-46 میں ہندوستان میں مرکز اور صوبوں کے انتخابات کا انعقاد ہوا۔ کانگریس نے بیشتر عمومی سیٹوں پر اور مسلم لیگ نے بیشتر مسلم سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ فروری 46 میں سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا، لارڈ پیتھک لارینس نے برطانوی ہاﺅس آف لارڈز میں اور برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے ہاﺅس آف کامنز میں ایک پالیسی کا اعلان کیا۔ یہ تین نکات پر مشتمل تھی:

i - آئین کی تشکیل کے لیے طریقِ کا ر کے ضمن میں برطانوی ہند کے منتخب نمائندگان سے صلاح و مشورہ کیا جائے گا۔

ii - آئین ساز مجلس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

iii - ہندوستان کی بڑی جماعتوں کے تعاون سے ایگزیکٹو کونسل یا عبوری کابینہ قائم کی جائے گی۔

اس موقعے پر برطانوی وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ ” ہندوستان کو اپنے مستقبل کے آئین کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔“ متذکرہ پالیسی پرعمل درآمد اور آئینی تنازعے کے حل کی تلاش کے لیے ایک خصوصی مشن، ”کابینہ مشن“ ہندوستان بھیجا گیا۔ اس مشن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہندو-مسلم تنازعہ تھا۔ کانگریس انڈین یونین میں ایک مضبوط مرکز چاہتی تھی، جبکہ مسلم لیگ مضبوط مسلم صوبوں کی حامی تھی۔ دونوں جماعتیں آئینی مسائل کے کسی متفقہ حل پر راضی نہ ہو سکیں۔ بہ ایں وجہ، شملہ کی سہ فریقی کانفرنس (مئی 1946) ناکام ہو گئی۔

کابینہ مشن کی ناکامی سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندو-مسلم تنازعے کا آئینی حل ممکن نہیں۔ لہذٰا، برطانوی حکومت نے ہندوستان کے لیے واحد آئین ساز اسیمبلی کا تصور ترک کر کے بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے علاحدہ علاحدہ آئین ساز اسیمبلیوں کے قیام کا فیصلہ کیا۔

4 جولائی 1947 کو بر طانوی پارلیمینٹ میں انڈین انڈی پینڈینس بل پیش کیا گیا۔ 18 جولائی کو اس بل کو شاہی تصدیق حاصل ہوگئی اور 19 جولائی کو یہ بل انڈین انڈی پینڈینس ایکٹ بن گیا۔ اس طرح، دہلی کی عبوری حکومت کو بھارت اور پاکستان میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ دو مملکتوں کا قانونی جنم تھا۔ اس کے ساتھ ہی دو آئین ساز اسیمبلیاں بھی وجود میں آ گئیں۔ انڈین انڈی پینڈینس ایکٹ کی رو سے ان اسمبلیوں کو دو فرائض سونپے گئے تھے: (i) آئین تیار کرنا؛ اور (ii) جب تک اس اسیمبلی کا بنایا ہوا آئین نافذالعمل نہ ہو جائے تب تک وفاقی آئین ساز اسیمبلی یا پارلیمینٹ کی حیثیت سے کام کرنا۔ واضح رہے کہ آئین کی تشکیل کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔ آئین کی تیاری تک گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ہی پاکستان کا عملی آئین تھا۔

پاکستان کی آئین ساز اسیمبلی کا افتتاحی اجلاس 10-14 اگست 1947 منعقد ہوا۔ قائد اعظم، صدر اور اقلیتی رکن جے۔ این منڈل عارضی چیئر مین منتخب کیے گئے۔ ابتدائی طور پر آئین ساز اسیمبلی کے ارکان کی تعداد 69 تھی، جو بعد میں بہاولپور، خیر پور اور بلوچستان کی ریاستوں اور قبائلی علاقوں کو نمائندگی دینے سے بڑھ کر 74 ہو گئی۔ آئین کی تشکیل کے لیے مختلف کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ ’بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘ سب سے زیادہ اہم تھی۔ اس نے دسمبر 1950 میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کی۔ دوسری کمیٹیوں میں شہریوں کے بنیادی حقوق، اقلیتوں سے متعلق معاملات، ریاستوں سے مذاکرات اور قبائلی علاقہ جات کے معاملات سے متعلق کمیٹیاں شامل تھیں۔

پہلے مجوزہ آئین کا دوسرا ڈرافٹ قیامِ پاکستان کے پانچ برس بعد 22 دسمبر 1952 کو آئین ساز اسیمبلی کے سامنے رکھا گیا اوراس پر بحث شروع ہوئی۔ لیکن اس ضمن میں پیش رفت کے بجائے ڈیڈلاک پیدا ہو گیا۔ مگر وزیرِاعظم محمد علی کی کوششوں سے حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیابی ہوئی۔ 16 ستمبر 1954 کو آئین ساز اسمبلی نے پاکستان کے پہلے آئین کا حتمی ڈرافٹ منظور کر لیا۔ 17 اکتوبر 1954 سے آئین پر بحث کا آغاز ہونا تھا۔ محمد علی نے قوم کو آئین کا تحفہ دینے کے لیے تاریخ ( 25 دسمبر 1954) بھی مقرر کر دی تھی۔          

14 اکتوبر 1954 کو ”ڈان“ نے یہ خبر دی کہ ” آئین سازی کی تکمیل کے لیے پندرہ دن سے بھی کم عرصے میں آئین ساز اسیمبلی کا اجلاس منعقد ہو گا۔ بتایا جاتا ہے کہ آئینی بل تیار ہے اور اس کے ایکٹ بننے میں اب رسمی منظوری کی دیر ہے۔“ 25 دسمبر 1954 کو اس آئین کا نفاذ عمل میں آ جانا تھا۔

لیکن ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ گورنر جینرل غلام محمد نے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا اور وہ تاریخی جملے ادا کیے جو بعد میں ایسے ہی مواقع پر دہرائے جانے تھے۔ انھوں نے کہا: ”ملک سیاسی بحران کا شکار ہے۔ آئینی مشینری تباہ ہوچکی ہے۔ لہٰذا، پورے پاکستان میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ آئین ساز اسمبلی اپنی موجودہ شکل میں عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور مزید کام نہیں کر سکتی۔ آخری اختیار عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ اپنے نمائندوں کے ذریعے آئینی معاملات سمیت تمام معاملات کا فیصلہ کرلیں گے۔ جتنی جلد ممکن ہو گا، انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔“

یہ تھا انجام پہلی آئین ساز اسیمبلی اور اس کے تیا ر کردہ آئین کا۔ یہ آئین، آئین ساز اسیمبلی کی سات برس کی کوششوں کے بعد تیار ہوا تھا۔ اس کی تباہی کے بعد ملک کو کیا حاصل ہوا: ایک ایسا آئین، جو غلام محمد کے شخصی احکامات سے مرتب ہوتا تھا۔

آئین ساز اسیمبلی کے صدر، مولوی تمیز الدین خاں نے گورنر جینرل کے اس اعلان کو ”غیر آئینی، غیر قانونی، دائرۂ اختیار سے متجاوز اور ناقابلِ عمل“ قرار دیتے ہوئے سندھ کی عدالت میں چیلنج کیا۔ چیف کورٹ آف سندھ کے فل بینچ نے متفقہ طور پر مولوی تمیز الدین کے حق میں فیصلہ دیا اور یہ کہا کہ آئین ساز اسیمبلی ایک مقتدر مجلس ہے، جسے ایک خاص مقصد کے لیے بنایا گیا تھا اور جب تک اس کا مقصد پورا نہیں ہو گا، یہ اس وقت تک برقرار رہے گی، تاآنکہ اس کے ارکان کی دو تہائی اکثریت اسے خود تحلیل نہ کر دے۔ عدالت نے یہ قرار دیا کہ آئین ساز اسیمبلی کو تحلیل کر نے کا اختیار تو اب انگلستان کے پاس بھی نہیں رہا اور یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ جو اختیار اب انگلستان کے پاس بھی نہیں رہا، وہ 1947 کے بعد پاکستان میں پھر سے استعمال میں لایا جاسکے۔

حکومت نے سندھ کورٹ کے فیصلے کے خلاف فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اس وقت چیف جسٹس مشہورِ زمانہ محمد منیر تھے۔ فیڈرل کورٹ نے ایک تکنیکی نکتے کا سہارا لیتے ہوئے 21 مارچ 1955 کو چار۔ایک کی اکثریت سے گورنر جینرل کے حق میں فیصلہ دے دیا اور پاکستان کی پیشانی پر مہرِ لاقانونیت ثبت کردی۔

اب ایک نیا ” آئین توڑو، آئین بناﺅ“ کھیل شروع ہو گیا۔ اس فیصلے کے چھ دن بعد 27 مارچ 1955 کو گورنر جینرل نے ایک آرڈینینس کے ذریعے متعدد اختیارات سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے ایک نئے آئین کی تشکیل کا اعلان بھی کیا۔ تاہم، 13 اپریل 1955 کو فیڈرل کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ آئین کی تشکیل کا کام صرف آئین ساز اسیمبلی کر سکتی ہے؛ گورنر جینرل اور اس کی کابینہ اس اختیار کی حامل نہیں۔ یہاں کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے گورنر جینرل کو ایک ”نئی آئین ساز اسیمبلی“ کے قیام کا اختیار بھی دے دیا۔ حکومت نے 60 رکنی “آئین ساز کنوینشن“ بلانے کا اعلان کیا۔ یوں ایک دوسری آئین سازاسیمبلی وجود میں آ گئی۔ اس کے ارکان کی تعداد بعد میں 80 کر دی گئی۔ اس نے چھ ماہ کے اندراندر، اپنا کام مکمل کرنا تھا، وگرنہ یہ خود بخود تحلیل ہو جاتی۔

7 جولائی 1955 کو دوسری آئین ساز اسیمبلی کا افتتاحی اجلاس مری میں منقعد ہوا۔ 8 جنوری 1956 کو اس نے آئین کا ڈرافٹ پیش کیا، جسے کچھ تبدیلیوں اور ترامیم کے بعد 29 فروری 1956 کو منظور کر لیا گیا۔ 2 مارچ 1956 کو آئین کا بل گورنر جینرل کی منظوری کے لیے بھیجا گیا۔ اس دوسرے آئین کی 245 دفعات میں سے بیشتر دفعات پہلے آئین کے ڈرافٹ پر مبنی تھیں۔ 23 مارچ 1956 کو یہ ”غیر قانونی“ آئین نافذ کر دیا گیا۔

یہ دوسرا آئین نفاذ کے بعد محض ڈھائی بہاریں دیکھ سکا۔ 7 اکتوبر 1958 کی ایک رات کے نصف پہر میجر جینرل سکندر مرزا نے مارشل لا لگا دیا اور آئین منسوخ کر دیا گیا۔ بعد ازاں جینرل ایوب نے سکندر مرزا کو معزول کر کے ملک سے باہر بھیج دیا اور اقتدارسنبھال لیا۔ مرکزی اورصوبائی کابینہ برطرف اور قومی اور صوبائی مقننّہ تحلیل کردی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے جینرل ایوب نے کہا کہ ہمارا پہلا اور آخری مقصد جمہوریت کی بحالی ہے، لیکن ایسی جمہوریت جسے لوگ سمجھ سکیں اور جو لوگوں کے کام آ سکے۔ یہ مارشل لا 8 جون 1962 تک نافذ رہا۔

10 اکتوبر 1958 کو جینرل ایوب نے ایک انٹرویو میں کہا: ”ہم نے جمہوریت کومستقل بنیادوں پرخیرباد نہیں کہا ہے۔ ہمیں جمہوریت کی طرف واپس جانا ہو گا۔ ہمیں اسے کارآمد بنانا ہو گا۔“ اسی روز انہوں نے ایک حکم جاری کیا، جس کے مطابق صدر کسی بھی وقت کسی بھی قانون کو تبدیل کر سکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بنیادی حقوق ختم ہو گئے ہیں اورصدر کو قانون سازی کا لامحدود اختیار حاصل ہے اور یہ کہ صدر کے اس اختیا ر پرکسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ اگرچہ اس حکم کے مطابق پاکستان کی حکومت کو مقدور بھر مرحوم آئین کے مطابق چلایا جانا تھا، لیکن اس میں حکومت سے مرحوم آئین کے قوانین مراد نہیں تھے، بلکہ حکومت کا ڈھانچہ مراد تھا۔ جبکہ آئین کو تو پہلے ہی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

17 فروری 1960 کو جینرل ایوب نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک ”آئینی کمیشن“ تشکیل دیا۔ اس کا مقصد پاکستان میں پارلیمانی حکومت کی ناکامی کے اسباب کا پتہ چلانا تھا۔ مزید برآں، کمیشن نے مستحکم حکومت کے قیام کے لیے آئینی تجاویز بھی پیش کرنا تھیں۔ کمیشن نے اپنی ”تحقیقات“ کے نتیجے میں یہ ثابت کر دکھایا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظامِ حکومت ناکام ہو چکا ہے۔ اس نے ناکامی کے تین اسباب بھی تلاش کیے:

i- انتخابات کا عدم انعقاد اور سابقہ آئین کی خامیاں

ii- وزارتوں اور سیاسی جماعتوں میں سربراہانِ مملکت کی اور صوبائی حکومتوں کی بے جا مداخلت

iii - منظّم اور نظم و ضبط کی حامل جماعتوں کی قیادت کا فقدان اور بالعموم کردار سے عاری سیاستدان اورانتظامیہ میں ان کا غیر ضروری عمل دخل

سیاستدانوں نے اس کمیشن کے نتائج کو مسترد کر دیا۔ ان میں چودھری محمد علی پیش پیش تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پارلیمانی نظامِ حکومت ناکام نہیں ہوا ہے اورنہ ہی سیاستدانوں کو مورِدالزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ خود صدر میجر جینرل سکندر مرزا نے اپنے حلف سے غداری کی ہے۔ ڈھائی برس قبل انہوں نے جس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا، اس آئین کو انہوں نے خود ہی منسوخ کر دیا۔ چودھری محمد علی کا موقف تھا کہ میجر جینرل سکندر مرزا نے دانستاً پارلیمانی جمہوریت کو بگاڑا اور تباہ کیا تاکہ وہ تاحیات آمر بن سکیں، بلکہ حالات ساز گار ہوں تو اپنی بادشاہت قائم کر لیں۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اگرچہ عام سیاستدان ہوسِ اقتدار میں مبتلا ہیں، لیکن آئین کی مبینہ ناکامی کی سب سے زیادہ ذمہ داری خود میجر جینرل سکندر مرزا پر آتی ہے۔ چودھری محمد علی نے کہا کہ آئین پرکھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ خاصے عرصے تک نافذالعمل رہے۔

تاہم کمیشن نے پاکستان کے لیے کسی بھی نوع کے استبدادی نظام کی تجویز کو مسترد کر دیا اور یہ تجویز کیا کہ طرزِ حکومت خواہ کوئی بھی ہو، اسے بہر صورت نمائندہ کردار کا حامل ہونا چاہیے۔ کمیشن نے اس ضمن میں لارڈ ایکٹن کے معروف قول کا حوالہ بھی دیا۔ ”اختیار خواہ کسی بھی قسم کا ہو، کرپٹ بناتا ہے؛ اختیارِ مطلق، مطلقاً کرپٹ بناتا ہے۔“ کمیشن نے صدارتی نظام کی سکیم پیش کرتے ہوئے، اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی ہو یا اہم تقرریاں یا مالیات، آزاد اور خود مختار مقننّہ ناگزیر ہے۔

کمیشن نے مئی 1961 میں اپنی رپورٹ صدر جینرل ایوب کو پیش کی۔ صدراور کابینہ نے اس پر غوروخوض کیا۔ اس کا جائزہ لینے کے لیے مزید کمیٹیاں بنائی گئیں۔ پھران کمیٹیوں کی رپوٹوں کو جانچا گیا۔ اس طرح چار ماہ میں تیسرے آئین کا حتمی ڈرافٹ تیار ہو گیا۔ یکم مارچ 1962 کو اس کے نفاذ کا اعلان کیا گیا۔

اس آئین میں انتخابات کے نظام، ’بنیادی حقوق،‘ سیاسی جماعتوں اور عد لیہ کے کردارسے متعلق کمیشن کی اہم تجاویز کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اصل میں یہ آئین، صدارتی نظامِ حکو مت کا داعی تھا۔ اس کے پیچھے یہ نظریہ کار فرما تھا کہ ملک کے نظم و نسق کا ذمے دار صدر ہے اور قومی اسیمبلی کے ارکان کا منصب عوام کے جذبات کی نمائندگی کرنا ہے۔

13 مارچ 1969 کو صدرجینرل ایوب خان نے پارلیمانی نظام اور براہِ راست انتخابات کے احیا کا اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے قومی اسیمبلی کے ذریعے آئین میں ترمیم کی جانی تھی اور یوں مارچ 1970 میں بالغ حقِ رائے دہی پر مبنی انتخابات ہونے تھے۔ اس طرح جو اسیمبلی وجود میں آتی، وہ آئین میں کوئی بھی ترمیم کر سکتی تھی۔ یہ احیا چھ ماہ کے احتجاجی جلوسوں، ہڑتالوں، ہنگاموں اوربالآخر سیاستدانوں کے ساتھ راﺅنڈ ٹیبل کانفرینس کے نتیجے میں ممکن ہوا تھا۔

لیکن کچھ سیاستدان صدرجینرل ایوب کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور انہوں نے مجوزہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی بھی دی۔ صورتِ حال اتنی خراب ہوئی کہ صدرجینرل ایوب نے مستعفی ہو کر اقتدار آرمی کے کمانڈر انچیف جینرل یحییٰ خان کو سونپ دیا۔ جینرل یحییٰ نے 5 مارچ 1969 کو مارشل لا نافذ کیا اور آئین کو منسوخ کر دیا۔ یہ ابتدائی بائیس برسوں میں بننے اور منسوخ ہونے والا، پاکستان کا تیسرا آئین تھا۔

30 مارچ 1970 کو جینرل یحییٰ نے ’’لیگل فریم ورک آرڈر‘‘ جاری کیا۔ اس آرڈر میں ان نکات کو واضح کیا گیا تھا، جن کے مطابق آئین تشکیل دیا جانا تھا۔ اس کی رو سے قومی اسیمبلی کے لیے 120 دنوں کےاندراندر آئین وضع کرنا ضروری تھا، ورنہ یہ خود بخود تحلیل ہو جاتی۔

دسمبر 1970 میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات منعقد ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئیں۔ مجموعی طور پر پاکستان کی اکثریتی جماعت، عوامی لیگ تھی۔ جینرل یحییٰ کے ’’لیگل فریم ورک آرڈر‘‘ کے مطابق (قانونی طور پر) آئین کی تشکیل، عوامی لیگ کا حق تھا اور حکومت بنانے کی جائز حق دار بھی وہی تھی۔ 3 مارچ 1971 کو قومی اسیمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلا ن کیا گیا۔ عوامی لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آئین بنا سکتی تھی، لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہوا، یا نہیں ہو نے دیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے 13 مارچ 1971 کو ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے قومی اسیمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی۔ اس پر جینرل یحییٰ نے یہ اجلاس ملتوی کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ بزورِ فوج، بنگالیوں کومطیع کرنےکی کوشش کی گئی۔ دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان، پاکستان سے جدا ہو گیا۔ پاکستان بھی انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا، اور بنگلہ دیش بھی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوا!

اس طرح 1971 کا آئین سقوطِ ڈھاکہ کی نذر ہو گیا۔ جینرل یحییٰ نے 17 دسمبر 1971 کو اس کے نفاذ کا اعلان کرنا تھا۔ یہ پاکستان کا چوتھا آئین تھا، جو بن کھلے مرجھا گیا۔

نئے اور”مختصر“ پا کستان میں 20 اکتوبر 1971 کو جینرل یحییٰ نے عنانِ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کے سپرد کر دی۔ ذوالفقارعلی بھٹو پاکستان کے پہلے اور شاید آخری سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ وہ صدرِ مملکت بھی تھے۔

14 اپریل 1972 کو قومی اسیمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ 17 اپریل 1972 کو عبوری آئین کی منظوری کے ساتھ 21 اپریل 1972 کو عبوری آئین کا نفاذ عمل میں آیا اور مارشل لا اٹھا لیا گیا۔ 21 اپریل کو ہی قومی اسیمبلی نے 25 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی۔ اس نے یکم اگست 1972 تک آئین تیار کرنا تھا۔ پھر اس معیاد میں 31 دسمبر 1972 تک توسیع کر دی گئی۔ اس کمیٹی نے 2 فروری 1973 کو آئین کا مسودہ قومی اسیمبلی میں پیش کیا۔ 19 اکتوبر 1972 تک پارلیمانی رہنماﺅں میں اہم آئینی امور پر سمجھوتہ ہو گیا تھا، مگر پھراختلافات پیدا ہو گئے۔ فروری سے مارچ 1973 تک کشیدگی اتنی بڑھی کہ حزبِ اختلاف نے 24 مارچ سے آئین سازی کے عمل کا بائیکاٹ کر دیا۔ تاہم، اپریل 1973 میں حزبِ اختلاف کی ترمیمات منظور کر لی گئیں اور بائیکاٹ ختم ہو گیا۔ 10 اپریل 1973 کو قومی اسیمبلی نے اور 12 اپریل 1973 کو صدرِ مملکت نے آئین کی منظوری دی۔ 14 اگست 1973 کو یہ پانچواں آئین نافذ ہو گیا۔

یہ آئین پہلی مرتبہ براہِ راست انتخابات کی بنیاد پر منتخب ہونے والے عوام کے نمائندوں نے تشکیل دیا تھا۔ اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے تمام ارکان نے اس پر دستخط کیے۔ ہاں، تین ارکان نے آئین سے متعلق کاروائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس آئین میں دفعہ-6 کی صورت میں خود اپنی بقا کا میکانزم بھی رکھا گیا تھا، جس کے مطابق آئین کو جزوی یا کلی طور پر معطل یا منسوخ کرنے والا سزائے موت کا حق دار تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے آئینی مدت پوری ہونے سے قبل ہی مارچ 1977 میں انتخابات منعقد کیے۔ حزبِ اختلاف نے حکومت پر قومی اسیمبلی کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے ”الزامات“ عائد کیے اور صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ جلسے جلوس اور ہنگامے شروع ہو گئے۔ موسم سازگار دیکھتے ہوئے 5 جولائی 1977 کو جینرل ضیاء نے مارشل لا نافذ کر کے آئین معطل کر دیا۔ گرچہ ظاہر یہ کیا گیا کہ آئین کے چند حصے ہی معطل کیے گئے ہیں (ان معطل حصوں میں دفعہ-6 یقیناً شامل تھی)۔          

24 مارچ 1981 کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، جینرل ضیاء کی طرف سے عبوری آئینی حکم (یا بدنامِ زمانہ پی۔ سی۔او) مجریہ 1981 جاری کیا گیا۔ ایسا کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ اعلیٰ عدالتیں، مارشل کورٹس کے فیصلوں پر نظر ثانی کر رہی تھیں۔ اب اس حکم کی دفعہ-2 کے تحت 1973 کے آئین کی چند دفعات کے علاوہ تمام آئین کو معطل کر دیا گیا۔ اسی حکم کی دفعہ-16 کے تحت صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے آئین میں ترمیم کے اختیارات بھی حاصل کر لیے۔

جینرل ضیاء تقریباً پونے چار برس جزوی طور پر معطل شدہ آئین سے کام چلاتے رہے۔ 24 دسمبر 1981 کو انہوں نے مجلسِ شوریٰ کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے آئین میں کچھ بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ لہٰذا، ملک کو ایک نیا سیاسی ڈھانچہ دینے کے لیے تین کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ (i) کابینہ کمیٹی؛ (ii) اسلامی نظریاتی کونسل کی کمیٹی؛ اور (iii) مجلسِ شوریٰ کی کمیٹی۔ فروری 1983 میں ایک اور خصوصی کمیٹی مقرر کی گئی۔ 2 اپریل 1983 سے جولائی 1983 کے دوران اس کمیٹی کے پانچ اجلاس ہوئے۔ 16 مئی 1983 کے اجلاس میں اس کمیٹی نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کمیٹی نے 1983 کے آئین میں درج صدر اور وزیرِاعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کرنے، اوراسلامی سیاسی ڈھانچے کی روشنی میں سیاسی جماعتی نظام کے قیام کے لیے سفارشات پیش کرنی تھیں۔ اس کمیٹی نے 8 جون 1983 کو اپنی رپورٹ خصوصی کمیٹی کو پیش کی۔

مگر جینرل ضیاء ان کمیٹیوں کی رپورٹوں سے مطمئن نہ ہوئے۔ انھوں نے تمام کمیٹیوں کی رپوٹوں کا جائزہ لینے اورجامع سفارشات کی تیاری کے لیے ایک آئینی کمیشن قائم کر دیا۔ کمیشن کے سربراہ مولانا ظفراحمد انصاری تھے۔ انھوں نے 6  اگست 1983 کو کمیشن کی سفارشات پر مبنی رپورٹ جینرل ضیاء کو پیش کی۔ اس کمیشن نے غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کی سفارش کی تھی۔ 12 اگست 1983 کوجینرل ضیاء نے مجلسِ شوریٰ کو بتایا کہ ہمارے پاس تین راستے تھے:(i) 1973 کے آئین کو بحال رکھا جائے؛ (ii) اسے منسوخ کر دیا جائے؛ یا (iii) اسے کچھ ترامیم کے ساتھ بحال رکھا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے تیسرا راستہ اختیار کیا ہے۔ کیونکہ پہلے دو راستوں میں کئی خطرات پو شیدہ تھے۔ انھوں نے مجلسِ شوریٰ کو یقین دلایا کہ غیرجماعتی بنیادوں پرانتخابات اورانتقالِ اقتدار کا کام 23 مارچ 1985 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

اب اس تجویز کا چرچا بھی کیا گیا کہ پارلیمانی جمہوریت یا کسی اور جمہوریت کے بجائے، اسلامی نظامِ جمہوریت، یعنی شوریٰ کریسی کے نفاذ کے لیے موجودہ نظام میں صدارتی انتخاب کا اضافہ کیا جائے۔ 14 اگست 1983 سے ’تحریکِ بحالیِ جمہوریت‘ (ایم ـ آر ـ ڈی؛ موومینٹ فار دا ریسٹوریشن آف ڈیماکریسی) کا آغاز ہو گیا۔ 1984 میں جینرل ضیاء نے ریفرینڈم یا صدارتی انتخاب کا چرچا کیے رکھا اور یکم دسمبر 1984 کو انھوں نے ریفرینڈم کا اعلان کر دیا۔ اس کے لیے، ریفرینڈم آرڈر 1984 جاری کیا گیا۔ 19 دسمبر 1984 کو ریفرینڈم کا انعقاد ہوا۔ اسے کسی بھی عدالت، ٹریبیونل، یا اتھاریٹی میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب جینرل ضیاء، صدرایوب، صدریحییٰ، اور بعد میں آنے والے صدر مشرف کی طرح، صدر ضیاء ہو گئے۔

12 جنوری 1985 کو جینرل ضیاء نے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ 25 فروری کو قومی اسیمبلی، اور28 فروری کو صوبائی اسیمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مارچ کے وسط میں سینیٹ کے انتخابات کے بعد 23 مارچ 1985 کو غیرجماعتی بنیادوں پر منتخب، پارلیمینٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔ جینرل ضیاء نے محمد خان جونیجو کو وزیرِاعظم نامزد کیا اوران سے حلف لیا۔

2 مارچ 1985 کو جینرل ضیاء نے آئین کی بحالی کا حکم، صدارتی حکم نمبر 14، مجریہ 1985 جاری کیا۔ اس حکم کی رو سے آئین کی متعدد دفعات میں تبدیلیاں یا ترامیم عمل میں لائی گئیں۔ پھر تو یہ کام خوب چلا۔ 30 دسیمبر 1985 کو جینرل ضیاء نے مارشل لا حکم نمبر 107 جاری کیا۔ اس کی رو سے 5 جولائی 1977 کے مارشل لا کے نفاذ کے حکم کو منسوخ کر دیا گیا۔ تاہم، چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ، انھوں نے اپنے پاس ہی رکھا۔ 29 مئی 1988 کو جینرل ضیاء نے آئین کی دفعہ B-2-58 کے تحت وفاقی کابینہ اور وزیرِاعظم جونیجو کو برطرف کردیا اور قومی وصوبائی اسیمبلیاں توڑ دیں۔

آخرِکار، 17 اگست 1988 کو C-130 کے حادثے میں جینرل ضیاء کی موت کے ساتھ، مارشل لا کا دور اختتام پذیر ہوا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، 16 نومبر 1988 کو دوبارہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات منعقد ہوئے۔ حکومت بنی۔ پھر ٹوٹی۔ پھر بنی، پھر ٹوٹی۔ ماورائے آئین کئی اقدامات ہوئے۔ یہ سلسلہ یو نہی چلتا رہا۔ یہاں تک کہ 12 اکتوبر 1999 کو ’پاک فوج‘ نے ایک مرتبہ پھر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ شامت آئین کی ہی آئی، کیونکہ طاقت اور آئین دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں۔ آئین کو معطل کر دیا گیا اور وہی جینرل ایوب والا فارمولا دہرایا گیا کہ کاروبارِمملکت مقدور بھر آئین کے مطابق چلایا جائے گا اور جہاں آئین رکاوٹ بنے گا، اسے آئین نہیں سمجھا جائے گا۔ یوں 12 اکتوبر1999 سے آئین ایک مرتبہ پھر سپریم نہیں رہا۔

مختصر، یہ کہ 24 اکتوبر 1954 کو آئین ساز مجلس اور آئین کی تحلیل سے پیدا ہونے والا آئینی خلا مسلسل بڑھتا رہا۔ اسے پُر کرنا تو ایک طرف، خلا در خلا پیدا کیے جاتے رہے۔ عدالتیں، آئینی تسلسل کو تقویت دینے اورآئینی خلاﺅں کو دور کرنے کے بجائے، ان پر مہرِتصدیق ثبت کرتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ایک ’ناقابلِ حکمرانی‘ اور بےسمت ملک کہا جانے لگا۔ اس کے اداروں نے ایک مو قع پرست شخص کی طرح، اصول و اقدار اور قانون و آئین جیسی ہر شے کو تسلیم کرنا چھوڑ دیا۔ نتیجتاً آئین کی بالادستی کی عدم موجودگی میں ملک طاقت ور ہاتھوں میں ایک کھلونا بن کر رہ گیا۔ یہی اس کی غیر آئینی تاریخ ہے۔

تاہم، مارچ 2007 سے آئین کی بالادستی کی ایک عظیم جنگ کا آغاز ہوا، جس میں آئین دوست اور قانون پسند قوتوں کو کامیابی ہوئی۔ مگر یہ جنگ ابھی جاری ہے، اور اس کامیابی کو ایک مستقل لازمے کی شکل دینے کے لیے پاکستانی ریاست پر اشرافی طبقات یعنی ریاستی اشرافیہ کے قبضے کا قلع قمع ضروری ہے۔ آئین دشمن اور قانون مخالف قوتیں سازشوں کے جال بُن رہی ہیں، اور بیشتر عناصر ان کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں۔ یہ وہ پرانے دن بہار کے واپس لانے کے لیے تڑپ رہے ہیں، جب چمن میں ان کا طوطی بولتا تھا، اور عدلیہ ان کے گھر کے ججوں پر مشتمل ہوتی تھی، اور میڈیا ان کے لکھے گیت گایا کرتا تھا۔ یہ عناصر ابھی تک اس نئی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان غیر آئینی دور سے آگے نکل آیا ہے، اور ایک بیدار اور چوکس عدلیہ کی موجودگی میں پاکستان کی ریاست، سیاست اور حکومت کو آئین اور قانون کے تحت ہی کام کرنا ہو گا۔ مگر یہ ایک مستقل جنگ ہے، تاآنکہ آئین اور قانون کی بالادستی کی روایت پاکستان کے رگ و پے میں رچ بس نہ جائے!  

[یہ مضمون تین اقساط میں ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ لاہورمیں جولائی – اگست 2000 میں شائع ہوا۔ یہ 19 اپریل، 2000 کو مکمل ہوا تھا۔ مختلف اوقات میں اس پر نظرثانی کی جاتی رہی ہے۔ اب کچھ اضافے کے ساتھ، اسے بلاگ پر پوسٹ کیا جارہا ہے۔]

© The Blogger
All rights reserved. No part of the contents published on this Blog – Notes from Pakistan may be reproduced or transmitted in any form or by any means, electronic, mechanical, photocopying, recording, or otherwise, without prior written permission of The Blogger.

Monday, November 26, 2012

Let us kill each other!

For us living together requires neither love nor mercy, but rules of conduct; everything be it ideology, faith, or any system of thought, comes after that. Anything short of it is at the same time inhuman and anti-human, and is like putting death before life. [K.A.]

“Hey, Mr., you are different. Your skin color is different. You wear clothes different from mine. Sometimes you use shorts or just rags. You eat things different from mine. You play different games. You sing and dance. You make and watch movies. You have places of nudity and obscenity which you call freedom and enjoyment. You call them art, fashion, and what not.

Your women live like you. They behave like you. They wear dress like yours. Or they wear nothing. They go out like you. They do everything like you do. They sing and dance like you. They sing and dance in public like you do. You kiss them in public and they you. You treat them like your equals.

You have installed a society and system which is different from mine. You hold elections and make a representative government which is different from mine. You have evolved representative institutions different from mine. You have a system of political parties which I don’t approve of. The world you live I don’t like at all. Why are you different?

You or most of you abandoned your beliefs. You compartmentalized your religion. You adopted the religion of freedom instead. You give religious freedom to all and sundry. You make them or let everybody believe as they wish. Practice their faith as they wish. To me it’s just non-sense.

You have evolved philosophy and seek truth. You have developed innumerable sciences and a lot of knowledge, technology. You call it freedom of thought and expression. You believe in freedom and free society. You live in freedom and die in freedom. I don’t approve of it.

You are completely different from me. I can’t bear it. Listen! Be like me. Or I will make you to be like me. And, mind it, I will kill you if you don’t do that. Be like me or I will kill you.”

Our world is populous with different individuals, communities, and people. No one is similar to the other. We have as many differences amongst us as many men and women there are on the face of our earth planet. Thus if anyone sets out on a journey of unifying them all - different individuals and their different individualities and their individual differences - into the image of his own liking, no doubt every one of us in that case will be constantly at war with each one of us. A killing spree will follow.

Until and unless we learn to live in peace with different people, their different individualities, their individual differences, their different beliefs, and their different systems of thoughts, there will be no end to it. That is what human civilization is all about. We have laws and rule of law and protection of fundamental rights to honor each one’s life and his freedom and to remain within the limits of our own life and freedom. That is what human existence is all about.

Under the present circumstances where the perpetrators of terror have unleashed a most brutal war the hidden agenda of which is ultimately their own political supremacy, we have two options clearly open to every one of us: kill each other, or live in peace with each other.

We know every war ends at total or partial annihilation of enemies, or most often at a truce. However modern wars could never accomplish what ancient wars did though in very few cases only: total killing of enemies. Thus modern civilization tried to transform the old war into strictly an instrument of policy and succeeded in confining its scope also, and it tried to rewrite the old truce into a permanent settlement. That is, agreeing on the minimum conditions for a policy of peaceful co-existence for all human beings regardless of the differences of caste and creed, so to say.

On another plane, a little while back we were in the process of reaching a universal agreement as to the realization, recognition, security and protection of fundamental inalienable rights and freedoms to all the individuals living on this earth. The terror war has negatively impacted on its progress. It needs to be conscious of that to make this world mutually livable. Life is a mutual social phenomenon, we need to appreciate that.

Along with it, we need to appreciate that as Nature and God made every people and individuals different and as all the people and individuals too want to be and remain different, let them be all different. That’s the beauty of life! Whoever is after destroying it is enemy of both life and its beauty! Let us kill not each other! Rather, let us enhance this beauty by not denying freedom to all!

[This article was completed on April 19, 2009.]

© The Blogger
All rights reserved. No part of the contents published on this Blog – Notes from Pakistan may be reproduced or transmitted in any form or by any means, electronic, mechanical, photocopying, recording, or otherwise, without prior written permission of The Blogger.

Sunday, November 25, 2012

Kumsin Siyasat Ki Kahani: 1857 Se 2012 Tak

کم سِن سیاست کی کہانی: 1857 سے 2012 تک

نوٹ: یہ کالم 24 نومبر کو روزنامہ مشرق پشاور میں شائع ہوا۔ تاہم، جیسا کہ اخبارات کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں، اس کے آخری دو پیرے تبدیل کر دیے گئے۔ یہ تو کچھ مجھے شک بھی تھا کہ اس کالم کی آخری سطور مِن و عَن شائع ہوں گی یا نہیں، اسی لیے میں نے ذرا نظر ڈالی تو معلوم ہوا، یہ پیرے غائب ہیں۔ اب پہلہے کالموں کے ساتھ کیا ہوا، میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مگر یہاں اس بلاگ پر روزنامہ مشرق پشاور میں چھپنے والے جو بھی کالم پوسٹ کیے گئے ہیں، وہ سب اصل ورشن ہیں۔

موجودہ کالم، جو اخبار میں چھپا ہے، اس میں آخری دوپیروں میں سے آخری تو سرے سے کافور ہو گیا ہے، اور آخری سے پہلے پیرے میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ یہ تبدیل شدہ پیرا دیکھیے:

’’ یہ انیسویں صدی کی سیاسی کہانی ہے۔ آج ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی، 2012 میں زندہ ہیں۔ کوئی ڈیڑھ سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ (یہاں تک تواصل سطور برقرار رکھی گئ ہیں۔ اس کے بعد یہ سطریں اخبار کی طرف سے اضافہ کی گئی ہیں۔) یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا آج کا پاکستان، 1857 کی اودھ کی سلطنت ہے۔ آج بھی پاکستان (کی) سیاسی جماعتوں میں موروثیت کا وہی شاہی طریقہ رائج ہے۔ کوئی بھی جماعت ماسوائے ایک کے پارٹی کی قیادت کارکنوں کو دینے کی روادار نہیں۔ جمہوریت کا دعویٰ سب کرتی ہیں مگر جمہوری رویہ کسی بھی پارٹی کی قیادت میں نہیں پایا جاتا۔ تمام بڑی جماعتوں میں قیادت اپنے نامزد جانشینوں کو سونپنے کی مثالیں موجود ہیں۔‘‘

اب اصل پیرے ملاحظہ کیجیے:

’’یہ انیسویں صدی کی سیاسی کہانی ہے۔ آج ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی، 2012 میں زندہ ہیں۔ کوئی ڈیڑھ سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ مگر ایک خبر نے پھر چونکا دیا۔ گو کہ یہ نئی خبر نہیں، پھر بھی یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ کیا آج کا پاکستان، 1857 کی اودھ کی سلطنت ہے۔ 21 نومبر کے اخبارات کی خبر کے مطابق بلاول نے اپنے والد، آصف علی زرداری، صدرِ پاکستان کے ہمراہ، ایوانِ صدر میں ”پاکستان - مستقبل کے رہنما“ کانفرینس سے خطاب کیا۔ اسے آئندہ الیکشن سے متعلق انتخابی مہم کا حصہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلاول زرداری کو سیاست کا تاج تو اسی وقت پہنا دیا گیا تھا، جب بے نظیر بھٹو قتل ہوئی تھیں۔ اس وقت خودآصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بنے تھے اور بلاول کو چیئر مین کی مسند پر سرفراز کیا تھا۔ بلکہ یہ بندوبست ایک ”تحریری وصیت“ کی روسے عمل میں لایا گیا تھا۔ اور جس طرح تخت نشینی کے وقت شہزادوں کو خطابات اور القابات سے نوازا جاتا تھا، اسی طرح بلاول کو ایک مخصوص ”سیاسی“ نام دیا گیا تھا: بلاول بھٹو زرداری۔

کیا یہ سیاست کا درست انداز ہے۔ کیا ایسا ہونا چاہیے۔ یہی نہیں، پیپلز پارٹی کے اس بندوبست کے پیچھے جو سوچ اور رویے کارفرما ہیں، ان کے ساتھ، کچھ نہایت اہم سوالات لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کیا پاکستان پیپلز پارٹی، واجد علی شاہ کے خاندان کی پارٹی ہے۔ اور کیا پاکستان اودھ کی سلطنت ہے۔ اور کیا بلاول، مرزا برجیس قدر ہیں، اور آصف علی زرداری، نواب محل۔ اور پیپلز پارٹی میں معزز و مدبر سمجھے جانے والے رہنما، جیسے کہ اعتزاز احسن، میاں رضا ربانی، اور کئی دوسرے، یہ سب محض درباری ہیں، اور ان کی فکر اور سیاست اس دربار سے وابستہ ہے! اور وابستہ رہے گی! اور ہزاروں لاکھوں کی رعیت کا کیا کہنا، جو رعیت بنے رہنے پر مصر ہے!‘‘

اور یہ رہا اصل کالم:

ویسے تو تنہا برصغیر کی تاریخ میں ایسی مثالیں کثرت سے مل جائیں گی کہ کب کب اور کہاں کہاں حکومت پر تسلط قائم رکھنے کے لیے کم سِنوں کوتاج پہنا یا گیا اور تخت پر بٹھا یا گیا۔ تاہم، فی الحال مولانا عبدالحلیم شرر کی شاہکار کتاب، ”گذشتہ لکھنؤ“ میرے پیشِ نظر ہے۔ مولانا شرر نے اپنی کتا ب میں 1857 کے غدر یا جنگِ آزادی پر ایک باب باندھا ہے، ”جنگِ آزادی اور لکھنؤ۔“ اس میں سے ایک اقتباس دیکھیے:

’بادشاہ (واجد علی شاہ) کلکتہ میں تھے، ان کا خاندان لندن میں تھا اور معاملہ زیرِ غور تھا کہ یکایک کارتوسوں کے جھگڑے اور گورنمنٹ کی ضد نے 1286 (1857ء) میں غدر پیدا کر دیا اور میرٹھ سے بنگالے تک ایسی آگ لگی کہ اپنے پرائے سب کے گھر جل اٹھے اور ایسا فتنہ پیدا ہوا کہ ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ کی بنیاد ہی متزلزل نظر آتی تھی۔ جس طرح میرٹھ وغیرہ کے باغی ہر طرف سے سمٹ کے دہلی میں جمع ہوئے تھے اور ظفر شاہ کو ہندوستان کا شہنشاہ بنایا تھا، ویسے ہی الہٰ آباد و فیض آباد کے باغی مئی 1857ء میں جوش وخروش کے ساتھ لکھنؤ پہنچے۔ ان کے آتے ہی یہاں کے بھی بہت سے بے فکرے اٹھ کھڑے ہوئے اور شاہی خاندان اودھ کا اور کوئی رکن نہ ملا تو واجدعلی شاہ کے ایک دس برس کے نابالغ بچے مرزا برجیس قدر کو تخت پر بٹھا دیا اور ان کی ماں نواب محل سلطنت کی مختار کل بنیں۔ تھوڑی سی انگریزی فوج یہاں موجود تھی اور اس کے ساتھ یہاں کے تمام یورپین عہدہ داران مملکت جو باغیوں کے ہاتھ سے جا ں بر ہو سکے، بیلی گارد میں قلعہ بند ہو گئے جس کے گرد باغیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی دھس بنا دیے گئے تھے اور حفاظت و بسر کا کافی بندوبست کر لیا گیا تھا۔ غنیمت ہوا یا یہ کہیے کہ قسمت اچھی تھی کہ واجدعلی شاہ لکھنؤ سے جا چکے تھے ورنہ وہی خواہ مخواہ بادشاہ بنائے جاتے۔ ان کا حشر ظفر شاہ سے بدتر ہوتا اور اودھ کے پریشان حالوں کو ذرا پنپنے کے لیے مٹیا برج کے دربار کا جو ایک رعایتی سہار امل گیا تھا، یہ بھی نصیب نہ ہوتا۔“
اس ضمن میں اتنا تو واضح ہے کہ مرزا برجیس قدر کو تخت پر بٹھانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے، اور انھیں نہ صرف تخت کا جائز حق دار ثابت کیا جا سکتا تھا، بلکہ رعیت میں بھی انھیں قبولیت حاصل ہو سکتی تھی۔ کم سِن شہزادے، برجیس قدر کو تاجدار بنانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انگریزوں کے سامنے انھیں تخت کا وارث بنا کر پیش کیا جا سکتا تھا۔ ابھی اس زمانے میں حقِ بادشاہت مقبول تھا، اسی کی رو سے انگریز، شاہی خاندان کو وظیفہ، پنشن، تنخواہ، وغیرہ، دیا کرتے تھے۔ کم سِن کو بادشاہ اس لیے بھی بنایا گیا کہ جس شاہی خاندان کے ہاتھ میں اس وقت عنانِ اقتدار تھی، جنگِ آزادی کی رہنمائی اور سربراہی بھی اسی کو کرنی تھی۔ بہادر شاہ ظفر کی مثال سامنے ہے۔

ایسی تمام صورتوں میں ایک مشکل یہ پیش آتی تھی کہ وہ کم سِن جسے تخت پر بٹھا یا جاتا تھا، ابھی تو اس کے کھیلنے کھانے کے دن ہوتے تھے، وہ بے چارہ اتنی دانائی اور عقل وشعور کہاں رکھتا تھا کہ مملکت اور سیاست کے پیچیدہ معاملات کو سمجھ اور حل کر سکے۔ یہی وجہ تھی کہ جب لکھنؤ کے باغیوں نے برجیس قدر کو تاج کے بوجھ سے لاد دیا تو ان کی ماں، نواب محل، سلطنت کی مختارِ کل بنیں، اور اس بھاری بوجھ کو اٹھایا۔ یعنی برجیس قدر جنھیں تخت پر بٹھایا گیا تھا، وہ تو محض ایک شو پیس تھے، ان کے پیچھے اصل اقتدار و اختیار ان کی ماں، نواب محل کے پاس تھا۔ ایسا کرنے کے پیچھے کوئی سیاسی چال موجود نہیں تھی۔ حقیقتاً یہ ضروری تھا، کیونکہ تاج و تخت کا وارث اور کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو صاف بات ہے، تاج وتخت ہاتھ سے نکل سکتا تھا۔ تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں، گوکہ کچھ صورتوں میں بادشاہ، پہلے ہی اپنی پسند سے کسی اورکو تخت کا وارث قرار دے دیتا تھا۔

مولانا شرر مزید بتاتے ہیں کہ اب لکھنؤ میں برجیس قدر کا ”زمانہ“ تھا اور حضرت محل کی ”حکومت۔“ بہرحال سکہ، برجیس قدر کے نام کا جاری ہوا۔ سلطنت کے عہدے دار مقرر ہوئے، ملک سے تحصیل وصول ہونے لگی۔ ابھی اسی سال نومبر کے مہینے میں برجیس قدر کی تخت نشینی کو چھ یا سات ماہ ہوئے تھے کہ انگریزی فوج لکھنؤ پر تسلط حاصل کرنے آ گئی۔ انگریزی فوج میں پنجاب کے سکھ اور بھوٹان کے پہاڑی شامل تھے، اور کہا جاتا ہے کہ انھیں لوگوں نے زیادہ مظالم کیے۔ نئی سلطنت کا جو نقش قائم ہوا تھا، دوتین دن کی گولہ باری میں مکڑی کے جالے کی طرح ٹوٹ کر رہ گیا۔ خود نواب محل اور برجیس قدر کو، دوسرے مفروروں کے ساتھ، نیپال کی طرف بھاگنا پڑا۔ چونکہ کوئی ایک لاکھ آدمیوں کا مجمع ساتھ تھا، سو یہ صلاح تھی کہ ہمالیہ کی گھاٹیوں میں پناہ گزیں ہو جائیں، جب موقع ملے انگریزوں پر حملہ کر دیں۔ فتح ہو تو اپنے وطن، تاج وتخت جا سنبھالیں، شکست ہوتو یہیں پہاڑوں میں بس رہیں۔ لیکن یہ ہونا مشکل تھا۔

نیپال کی حکومت نے برجیس قدر اور نواب محل کو پناہ دے دی، مگر ہمراہیوں کو وہاں سے بھاگ جانے کاحکم دیا۔ نیپال کے دربار سے بادشاہ اور ان کی ماں کے لیے معمولی وظیفہ مقرر ہو گیا۔ ان کے ساتھ جس قدر جواہرات تھے، سب کے سب دولتِ نیپال کی نذ رہوئے۔ نواب محل تو وہیں پیوندِ خا ک ہوئیں۔ جب ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی منائی گئی تو برجیس قدر کا قصورمعاف ہوا، اور واپسی کی اجازت ملی۔ وہ نیپال سے کلکتہ پہنچے۔ واجد علی شاہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ بڑی اولاد کی حیثیت سے مرزا قمر قدر سب سے زیادہ تنخواہ پا رہے تھے۔ برجیس قدر نے دعویٰ کیا کہ بادشا ہ کی اولاد میں وہ زیادہ معزز و مستحق ہیں۔ پنشن کے قانون کی رو سے تنخواہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ تمام ورثا اور وابستگان کی خبر گیری ان کے سپرد کی جائے۔ اپنے اس دعوے کی پیروی میں وہ انگلستان جانے کی تیاری میں تھے کہ ان کے خاندان میں سے ہی کسی نے دعوت کی۔ دعوت سے واپسی پر سب کی حالت خراب ہو گئی، اور ایک ہی دن میں وہ، ان کی اہلیہ اور کئی فرزند، سب کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔

یہ انیسویں صدی کی سیاسی کہانی ہے۔ آج ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی، 2012 میں زندہ ہیں۔ کوئی ڈیڑھ سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ مگر ایک خبر نے پھر چونکا دیا۔ گو کہ یہ نئی خبر نہیں، پھر بھی یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ کیا آج کا پاکستان، 1857 کی اودھ کی سلطنت ہے۔ 21 نومبر کے اخبارات کی خبر کے مطابق بلاول نے اپنے والد، آصف علی زرداری، صدرِ پاکستان کے ہمراہ، ایوانِ صدر میں ”پاکستان - مستقبل کے رہنما“ کانفرینس سے خطاب کیا۔ اسے آئندہ الیکشن سے متعلق انتخابی مہم کا حصہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلاول زرداری کو سیاست کا تاج تو اسی وقت پہنا دیا گیا تھا، جب بے نظیر بھٹو قتل ہوئی تھیں۔ اس وقت خودآصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بنے تھے اور بلاول کو چیئر مین کی مسند پر سرفراز کیا تھا۔ بلکہ یہ بندوبست ایک ”تحریری وصیت“ کی روسے عمل میں لایا گیا تھا۔ اور جس طرح تخت نشینی کے وقت شہزادوں کو خطابات اور القابات سے نوازا جاتا تھا، اسی طرح بلاول کو ایک مخصوص ”سیاسی“ نام دیا گیا تھا: بلاول بھٹو زرداری۔

کیا یہ سیاست کا درست انداز ہے۔ کیا ایسا ہونا چاہیے۔ یہی نہیں، پیپلز پارٹی کے اس بندوبست کے پیچھے جو سوچ اور رویے کارفرما ہیں، ان کے ساتھ، کچھ نہایت اہم سوالات لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کیا پاکستان پیپلز پارٹی، واجد علی شاہ کے خاندان کی پارٹی ہے۔ اور کیا پاکستان اودھ کی سلطنت ہے۔ اور کیا بلاول، مرزا برجیس قدر ہیں، اور آصف علی زرداری، نواب محل۔ اور پیپلز پارٹی میں معزز و مدبر سمجھے جانے والے رہنما، جیسے کہ اعتزاز احسن، میاں رضا ربانی، اور کئی دوسرے، یہ سب محض درباری ہیں، اور ان کی فکر اور سیاست اس دربار سے وابستہ ہے! اور وابستہ رہے گی! اور ہزاروں لاکھوں کی رعیت کا کیا کہنا، جو رعیت بنے رہنے پر مصر ہے!

© The Blogger
All rights reserved. No part of the contents published on this Blog – Notes from Pakistan may be reproduced or transmitted in any form or by any means, electronic, mechanical, photocopying, recording, or otherwise, without prior written permission of The Blogger.