سعید اقبال واہلہ کے لیے دو نظمیں
سعید اقبال واہلہ میرے بہت عزیز دوست تھے۔ ہماری دوستی پنجاب
یونیورسیٹی کے شعبۂ فلسفہ میں ہوئی، جہاں ایم- اے فلسفہ کرتے ہوئے کچھ اور بہت گہری دوستیاں قائم ہوئیں۔ وہ سول
سروس میں چلے گئے، اور میں پہلے پی ٹی وی اور پھر تعلیم سے وابستہ ہوا۔ ابھی بڑی
عید سے قبل 25 اکتوبر کو ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ کافی عرصے
بعد تبدیل ہو کر لاہور آ گئے تھے۔ 8 نومبر کو صبح ان کے
سکریٹری کے کئی فون آئے، وہ 15 نومبر کے دن شام
ساڑھے پانچ بجے تمام دوستوں کو ایک دعوت پر اکٹھا کرنا چاہتے تھے۔ اسی شام کوئی
سوا پانچ یا ساڑے پانچ بجے ٹی وی چینلز پر یہ خبر نشر ہوئی کہ دفتر سے گھر جاتے
ہوئے سعید اقبال واہلہ، سیکریٹری ماحولیات کو دل کا دورہ پڑا، اور وہ حرکتِ قلب
بند ہونے سے اس دنیا سے گزر گئے۔ ان کی موت ہم سب دوستوں کے لیے اندوہناک بھی ہے
اور جانکاہ بھی۔ میرے لیے تو یہ قطعی ناقابلِ فہم ہے۔ جب 25 اکتوبر کو ان سے ملاقات ہوئی، ایسے کوئی بات نہ تھی، نہ انھوں نے
ایسی کسی تکلیف کا ذکر کیا۔ ہاں، انھوں نے خود بتایا کہ انھوں نے کافی وزن کم کیا
ہے، اور کیا اب بہت سمارٹ نہیں لگ رہے؟ وہ ہم کچھ دوستوں کی دوستی کا جو درخت ہے،
اس سے گِرنے والا پہلا پتّا تھے!
پہلی نظم
یہ دل ہی تو دشمن ہے
اندر چھپا رہزن ہے
فطرت سے فریبی ہے
عادت سے کمینہ ہے
آ جائے کسی پر جب
اک طرفہ مصیبت ہے
نفرت ہو، محبت ہو
ہر قدر کا مَدفن ہے
چھوڑے جو دھڑکنا تو
کیسی بڑی آفت ہے
کیا اس سے وفا ہوگی
جلتا ہوا دامن ہے
یہ دل ہی تو دشمن ہے
اندر چھپا رہزن ہے!
دوسری نظم
جب موت آ دبوچے گی
مہلت کہاں ملے گی پھر
دوستوں سے آج ملنا ہے
وہ کتاب واپس کرنی ہے
کالم مکمل کرنا ہے
’’تشکیک‘‘ پہ پوسٹ لکھنی ہے
نیوز کی کٹنگ رکھنی ہے
ایمیل کا جواب دینا ہے
یہ نظم بھی پوری کرنی ہے
سب اَن کیا رہ جائے گا
جب موت آ دبوچے گی
جن کو میں چاہتا ہوں وہ
جو مجھے چاہتے ہیں وہ
بے بس سبھی رہ جائیں گے
جب موت آ دبوچے گی
آنکھوں سے جان کھینچے گی
دل کو پکڑ کے بھینچے گی
چھین کے لے جائے گی مجھے
میں دیکھتا رہ جاؤں گا
جب موت آ دبوچے گی!
[27 نومبر، 2012]
©
The Blogger
All rights reserved. No part of the contents published on this Blog – Notes from Pakistan may be reproduced or transmitted in any form or by any means, electronic, mechanical, photocopying, recording, or otherwise, without prior written permission of The Blogger.
All rights reserved. No part of the contents published on this Blog – Notes from Pakistan may be reproduced or transmitted in any form or by any means, electronic, mechanical, photocopying, recording, or otherwise, without prior written permission of The Blogger.
Dear Sir,
ReplyDeleteI am Rawal Wahlah, son of late Mr. Saeed Wahlah. I was browsing through the internet and found your wonderful blog. The introduction and especially the two poems that you wrote about my father are not only moving, they are also thought provoking and speak of the phenomenon of death very lucidly. I forwarded the link to my family back in Pakistan (I'm currently doing my undergraduate from York University, Canada) and we are all very thankful to you for taking time out and immortalizing our beloved father in two beautiful pieces of literature. God bless you.
Dear Rawal, I have been thinking of you since you posted this comment. Pl contact me via my email! Khalil
Delete